جماران | ایران اور دنیا کی تازہ ترین خبریں، سیاست، معیشت اور فکر

امام خمینیؒ کے افکار و عرفان کو دنیا تک پہنچانے کے لیے سابق ایرانی سفیروں کا اہم اجلاس

ایران کے مختلف ممالک میں تعینات رہنے والے سابق سفیروں کا ایک اہم اجلاس امام خمینیؒ کے افکار، فکری و عرفانی تعلیمات اور ان کے عالمی تعارف کے طریقوں کا جائزہ لینے کے لیے مؤسّسۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی، سابق ایرانی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی، ادارے کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین علی کمساری اور متعدد سابق سفیروں و ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

خبر نمبر: ۱۷۳۴۴۰۳
امام خمینیؒ کے افکار و عرفان کو دنیا تک پہنچانے کے لیے سابق ایرانی سفیروں کا اہم اجلاس

اجلاس کے آغاز میں علی کمساری نے امام خمینیؒ، مرحوم سید احمد خمینی اور حالیہ شہداء، بالخصوص شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نشست کا مقصد ملک کے تجربہ کار سفارت کاروں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امام خمینیؒ کے افکار کو ایران کی سرحدوں سے باہر متعارف کرانے کے طریقوں پر

غور کرنا ہے۔

علی کمساری نے امام خمینیؒ کی تصانیف اور ان کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کے تراجم سے متعلق بتایا کہ اب تک 400 سے زائد کتابیں اور تصانیف 26 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، جبکہ ادارہ تقریباً دو ہزار کتابیں شائع کر چکا ہے۔ ان کے مطابق صحیفۂ امام کی 22 جلدوں پر مشتمل سیریز کے بیرونی قارئین سے متعلق حصے کا انگریزی، عربی اور اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دانشنامۂ امام خمینیؒ کے منتخب حصوں کو بھی ان زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امام خمینیؒ کی تفسیرِ قرآن چار زبانوں، وصیت نامہ 23 زبانوں اور سوانحِ حیات پر مشتمل کتاب ’’حدیثِ بیداری‘‘ 24 زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح ’’کلماتِ قصار‘‘ 21 اور ’’جہادِ اکبر‘‘ 13 زبانوں میں دستیاب ہے۔ ان میں سے 25 کتابیں آن لائن پلیٹ فارم ایمیزون پر بھی پیش کی گئی ہیں۔

سابق ایرانی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے امام خمینیؒ کی شخصیت کے چار نمایاں پہلوؤں، یعنی فقیہ، سیاست دان و حکمران، عارف اور فلسفی ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے امام خمینیؒ کو اپنے زمانے کا محی الدین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام نے سیاسی بصیرت کے ذریعے عالمی حالات میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھایا اور انقلاب کو کم سے کم نقصان کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کیا۔

صالحی نے گزشتہ دہائیوں کی ثقافتی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیم کو صرف فقہی مناسک تک محدود رکھنے اور محبت، عشق اور عرفان کے پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے باعث نئی نسل میں دوری پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں نوجوانوں تک پہنچنے کا مؤثر ذریعہ محبت ہے اور انہیں پہلے اسلام کی حقیقی مٹھاس، محبت اور عرفانی معارف کے ذریعے متعارف کرانا چاہیے۔

ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ کے عرفان اور معنویت کو سیاسی شور و ہنگامے سے دور رہتے ہوئے دنیا تک پہنچانے کے لیے رابطوں کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کرنا نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے انعقاد کا بنیادی مقصد امام خمینیؒ کے فکری اور عرفانی پہلوؤں کو عالمی سامعین تک پہنچانے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔

ایران کی انجمنِ علمی عرفانِ اسلامی کی سربراہ ڈاکٹر طباطبائی نے اپنے بیرونِ ملک دوروں کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف معاشروں میں جب امام خمینیؒ کی معنویت، اخلاق اور طرزِ عمل کا ذکر کیا جاتا تھا تو لوگوں کی دلچسپی بڑھ جاتی اور وہ اس حوالے سے بہت سے سوالات کرتے تھے۔ انہوں نے افریقی ممالک کے ایک سرحدی شہر کا واقعہ بیان کیا، جہاں لوگ گھنٹوں بیٹھ کر امام خمینیؒ کی اخلاقی زندگی، خاندانی تعلقات اور روزمرہ طرزِ عمل کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔ انہوں نے جاپان میں امام خمینیؒ کی کتاب ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کے ترجمے اور وہاں کے ایک تعلیمی ادارے میں حوزوی تعلیم کے نظام پر ہونے والی تحقیق کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر طباطبائی کے مطابق آج کی دنیا مادہ پرستی سے تھک چکی ہے اور معنویت کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے امام خمینیؒ کی کتابوں ’’شرح حدیث جنود عقل و جہل‘‘، ’’چالیس احادیث‘‘ اور دیوانِ اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے عرفانی سفر اور عقل و عشق کے تصور کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امام خمینیؒ کے نزدیک عقل جب جہالت اور اخلاقی برائیوں پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو انسان کے توحید اور ذاتِ الٰہی تک پہنچنے کے سفر میں عشق کو بھی اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ مختلف ممالک کے دوروں میں سفیروں کے مشاہدات اور عوام کی امام خمینیؒ سے دلچسپی کے اسباب کو تفصیل سے محفوظ کیا جائے، تاکہ نئی نسل ان واقعات کے ذریعے امام اور دنیا بھر میں ان سے محبت کرنے والوں کو بہتر طور پر جان سکے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مختلف ممالک میں امام خمینیؒ کے افکار سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور گروہوں سے رابطے قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔  

اجلاس میں سابق سفیروں نے بھی اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔ سعودی عرب، لیبیا اور عمان میں ایران کے سابق سفیر محمدرضا نوری شاہرودی نے ڈاکٹر طباطبائی کی علمی و عرفانی سرگرمیوں اور سیستان و بلوچستان، ریاض اور عمان کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں سے نوجوانوں کی دینی اور اخلاقی تربیت میں نمایاں تبدیلی آئی۔

جرمنی اور ہالینڈ میں ایران کے سابق سفیر سید شمس الدین خارقانی نے امام خمینیؒ کے افکار کے عالمی تعارف کے لیے موضوعاتی اور جغرافیائی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز دی، تاکہ مختلف ممالک کے بدلتے حالات کے مطابق ان موضوعات کو مرتب اور اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔

تھائی لینڈ میں ایران کے سابق سفیر رسول اسلامی نے تقریباً بیس سال قبل تھائی لینڈ میں خواتین سے متعلق ایک اجلاس میں ڈاکٹر طباطبائی کی تقریر کا ذکر کیا، جسے وہاں کے دانشوروں، ایران شناسوں، اسلام شناسوں اور ذرائع ابلاغ میں پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ برازیل اور جنوبی افریقہ میں ایران کے سابق سفیر قانع زادہ نے امام خمینیؒ کی کتابوں، تقاریر اور تفاسیر کو انگریزی زبان میں عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے امریکی محققین سے تعاون کی تجویز پیش کی۔

لبنان اور اردن میں ایران کے سابق سفیر احمد دستمالچیان نے فکری محاذ اور علمی جنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ کی سیرت اور افکار کو نئی نسل کی زبان میں پیش کرنے اور انہیں تعلیمی مواد کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ تیونس اور قطر میں ایران کے سابق سفیر رضا سخائی نے بھی امام خمینیؒ کے عرفانی افکار کو ان کے سیاسی پہلوؤں کے ساتھ عالمی سطح پر متعارف کرانے پر زور دیا۔

بھارت اور روس میں ایران کے سابق سفیر غلامرضا انصاری نے امام خمینیؒ کے قریبی ساتھیوں کی یادداشتوں اور مشاہدات کو تفصیل سے محفوظ کرنے اور مختلف ممالک میں شیعوں کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ انقلابِ اسلامی کی تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایا جا سکے۔ بوسنیا میں ایران کے سابق سفیر محمود صدری نے بھی وہاں ایرانی سفارت خانے اور ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ کے ثقافتی و علمی تعاون کے تجربات بیان کیے۔

اجلاس میں سابق سفیروں محمد خزاعی، محمدرضا باقری، محمدطاہر ربانی اور صباح زنگنہ سمیت دیگر شخصیات نے بھی اپنے مشاہدات اور تجاویز پیش کیں۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ امام خمینیؒ کے افکار کو صرف سیاسی تناظر میں نہیں بلکہ ان کی عرفانی، اخلاقی، فکری اور تربیتی جہات کے ساتھ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

تین گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس کے اختتام پر تحریف اور غلط نسبتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’دلیل‘‘ نامی تصدیق و جانچ کے نظام کے ابتدائی ورژن کی رونمائی کی گئی۔ مؤسّسۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ کے مرکزِ نگرانی کے سربراہ ڈاکٹر امیرمحمد عادلانی نے بتایا کہ اس نظام کو امام خمینیؒ کے فکری ورثے کے تحفظ اور میڈیا میں ان سے منسوب جعلی روایات، غلط مطالب اور بیانات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنے کے رجحان کی روک تھام کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ’’دلیل‘‘ نظام میں امام خمینیؒ سے منسوب عام طور پر دہرائے جانے والے بیانات کو ذرائع ابلاغ کی نگرانی، تحقیقی مطالعات اور قارئین کے سوالات کی بنیاد پر صحیفۂ امام کی 22 جلدوں اور مستند دستاویزات سے جانچا جائے گا۔ اس نظام کو آئندہ دو ماہ کے دوران باقاعدہ طور پر متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

 

endNewsMessage1

آپ کی رائے