جماران | ایران اور دنیا کی تازہ ترین خبریں، سیاست، معیشت اور فکر

ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کا غصہ عروج پر،ٹرمپ ذمہ دار مگر قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے

وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں پیدا ہونے والے تعطل اور ابتدائی اہداف حاصل نہ ہونے پر سخت برہم ہیں۔ اب وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے حکومتی اور عسکری حلقوں میں کسی قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں۔

خبر نمبر: ۱۷۳۴۴۰۱
ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کا غصہ عروج پر،ٹرمپ ذمہ دار مگر قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے

 

جماران نیوز ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی موجودہ صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی پیش رفت پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی بڑھتی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اب ان عہدیداروں میں ذمہ دار تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے جنگ کے فوری اور کامیاب اختتام کی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔

دی اٹلانٹک نے امریکی صدر کے مشیروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنے دوستوں اور قابلِ اعتماد افراد سے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی کارکردگی کے بارے میں رائے طلب کی ہے۔ ٹرمپ کے معمول کے طرزِعمل کو دیکھتے ہوئے، جس میں وہ کسی عہدیدار کو برطرف یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، اس اقدام سے ان کی عسکری ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے بعض قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ پیٹ ہیگستھ نے ایران کے ساتھ جنگ کی زمینی صورتِ حال کی حقیقت پسندانہ تصویر صدر کے سامنے پیش نہیں کی۔ ان کے بقول، وزیرِ جنگ نے جنگ کی اصل صورتِ حال بتانے کے بجائے ایسی معلومات اور تجزیے فراہم کیے جو ٹرمپ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق تھے۔

دی اٹلانٹک سے گفتگو کرنے والے امریکی حکام نے عوام تک حکومتی سیاسی پیغامات مؤثر انداز میں پہنچانے میں ناکامی پر بھی ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی برہمی کا ذکر کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت کے مؤقف اور پیغامات عوام تک اس انداز میں نہیں پہنچ رہے جس کی انہیں توقع تھی اور نہ ہی وہ رائے عامہ پر مطلوبہ اثر ڈال پا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کو اپنے سیاسی تعطل میں اضافے کا ایک اہم سبب سمجھتے ہیں اور اب وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جس پر جنگ کے ابتدائی اہداف حاصل نہ ہونے کی ذمہ داری ڈالی جا سکے۔ اس صورتِ حال میں وہ عہدیدار زیادہ تنقید کی زد میں ہیں جنہوں نے پہلے ایران کے خلاف جنگ میں فوری اور مؤثر کامیابی کے دعوے کیے تھے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکی صدر کے قریبی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ابتدائی اندازوں میں یہ امید وابستہ کی گئی تھی کہ ایران کے خلاف محض فوجی کارروائی کی دھمکی ہی تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کر دے گی۔

مجموعی طور پر دی اٹلانٹک کی یہ رپورٹ وائٹ ہاؤس کے فیصلہ ساز حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ایران کے خلاف جنگ کے نتائج سے متعلق ابتدائی امریکی اندازوں پر اٹھنے والے سوالات کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اب اپنی ٹیم کے اندر ناکامی کا ذمہ دار تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

 

endNewsMessage1

آپ کی رائے