جماران نیوز ایجسنی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر حملے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی ہے اور ان خبروں کو بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔
یہ تردید سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی، جس میں ایک نامعلوم عمارت کے اندر لوگوں کے ہجوم اور بعض افراد کے درمیان ہاتھا پائی دیکھی جا سکتی تھی۔ اسی دوران یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایک تقریب کے دوران پاکستانی سفیر کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
عمران احمد صدیقی کو گزشتہ سال فروری میں ایران میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ بنگلہ دیش میں بھی پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے لندن میں پاکستانی سفیر پر حملے سے متعلق اسی نوعیت کی ایک افواہ کی بھی تردید کی تھی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔