شہید آیت اللہ سید مصطفیٰ خمینیؒ محض اپنے والد کے سائے میں زندگی گزارنے والے فرزند نہیں تھے، بلکہ وہ تحریک کے فکری رہنما، عملی قوت اور اس کے مختلف حلقوں کو آپس میں جوڑنے والی اہم کڑی تھے۔ ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ ہجری شمسی کی تحریک کے پُرتلاطم دنوں سے لے کر ترکی میں جلاوطنی کے دشوار گزار برسوں اور پھر نجف اشرف تک، انہوں نے امام خمینیؒ کے بیتِ شریف کے انتظام، ایران کے اندر انقلابی کارکنوں سے رابطوں، اعلامیوں کی تنظیم اور بیرونِ ملک سرگرم مزاحمتی حلقوں سے روابط کی بھاری ذمہ داریاں سنبھالیں۔
یکم آبان ۱۳۵۶ ہجری شمسی کی صبح نجف اشرف گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ مذہبی شہر کی تاریک اور تنگ گلیاں ایک نئے دن کے آغاز کی منتظر تھیں، لیکن اس گھر میں، جو اسلامی تحریک کی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے ایران کی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
آیت اللہ سید مصطفیٰ خمینیؒ کی اچانک اور پُراسرار وفات محض ایک خاندانی صدمہ نہیں تھی، بلکہ اس نے پہلوی حکومت کے خاتمے کی جانب بڑھتی ہوئی تحریک میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے عوامی معاشرے کی جدوجہد میں فیصلہ کن موڑ بن گیا جو ساواک کے جبر اور پہلوی حکومت کے استبداد سے تنگ آ چکا تھا۔
سید مصطفیٰ خمینیؒ فقہ، اصول، فلسفہ اور تفسیر پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ ان کی علمی صلاحیتوں نے انہیں ایک ممتاز مجتہد بنایا، لیکن وہ خود کو صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رکھتے تھے، بلکہ عملی جدوجہد کے میدان میں بھی سرگرم رہتے تھے۔
پہلوی حکومت اور اس کے خفیہ ادارے ساواک اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ یہ نواندیش فقیہ ان کے آمرانہ عزائم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسی لیے انہیں متعدد مرتبہ دھمکیاں دی گئیں۔ مضمون کے مطابق، ان کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے بھی انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ شاہ کا نظامِ جبر اہم شخصیات کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یکم آبان کی سحرگاہ میں یہ خدشات ایک المناک واقعے کی صورت اختیار کر گئے۔ مضمون میں ان کے جسم، سینے اور کندھوں پر وسیع نیلگوں نشانات، جسم کی غیرمعمولی حرارت اور مطالعے کے کمرے کی مشکوک صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند زہر خورانی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مضمون نگار کے مطابق، حکومت اور اس کے تبلیغاتی ذرائع نے اس واقعے کو معمول کے قلبی دورے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے نزدیک اس واقعے کے پسِ پردہ حقیقت پوشیدہ نہ رہ سکی۔
اس المناک سانحے پر امام خمینیؒ کا ردعمل صبر، تدبر اور غیرمعمولی سکون کی مثال تھا۔ انہوں نے اس بحران کا سامنا حوصلے اور استقامت کے ساتھ کیا اور بعدازاں اس صدمے کو ’’الطافِ خفیۂ الٰہی‘‘ قرار دیا۔ مضمون کے مطابق، اس واقعے کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی مجالسِ سوگواری حکومت کے خلاف احتجاج کے اہم مراکز بن گئیں اور مختلف طبقوں کے درمیان اتحاد کو تقویت ملی۔
شہید سید مصطفیٰ خمینیؒ کی شخصیت کے انسانی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ان کی نجی زندگی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ان کی اہلیہ، بانو معصومہ حائری، آیت اللہ مرتضیٰ حائری یزدی کی صاحبزادی تھیں۔ مضمون کے مطابق، وہ اپنے والد کے اعتماد کے ساتھ اس رشتے میں آئیں، لیکن پہلی ہی ملاقات میں انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان کے ہونے والے شوہر دوسروں سے مختلف شخصیت کے مالک ہیں۔
وہ قدآور، خوش شکل، خوش مزاج اور اپنے زمانے کے لحاظ سے جدید اندازِ فکر رکھنے والے انسان تھے، جو گھریلو زندگی میں غیرضروری سختی اور تحکم کے قائل نہیں تھے۔
جلاوطنی کے کٹھن برس، ایران میں موجود خاندان سے طویل دوری اور والدین کے حالات سے بے خبری، ان کی اہلیہ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان تھے۔ انہوں نے صبر و استقامت کے ساتھ ان دشواریوں میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔
مضمون میں اس المناک لمحے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جب گھر کے خادم نے شہید سید مصطفیٰ خمینیؒ کو ان کی میزِ مطالعہ پر بے جان پایا۔ اس سانحے کا سامنا ان کی اہلیہ کے لیے ایک ایسا گہرا صدمہ تھا جس کے اثرات زندگی کے آخری ایام تک باقی رہے۔
اسی طرح ان کی والدہ، خدیجہ ثقفی، جو بانو قدس ایران کے نام سے بھی معروف تھیں، نے اپنے بیٹے کی جدائی کا غم انتہائی ضبط کے ساتھ برداشت کیا۔ مضمون نگار کے مطابق، وہ امام خمینیؒ کے گھرانے کے حوصلے کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کے سامنے اپنے آنسو ظاہر نہیں کرتی تھیں، لیکن تنہائی میں اپنے بیٹے کی جدائی کا غم شدت سے محسوس کرتی تھیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنی توجہ یتیم رہ جانے والے پوتے پوتیوں پر مرکوز کر دی، تاکہ ان کے خاندان کو سہارا اور تحفظ فراہم کر سکیں۔
شہید سید مصطفیٰ خمینیؒ ۴۷ برس کی عمر میں جلاوطنی کے دوران نجف اشرف میں دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی وفات نے انقلابی تحریک میں ایک نئی لہر پیدا کی۔ مضمون کے اختتام پر انہیں استقامت، روشن فکر اجتہاد اور حق کی کامیابی کے لیے جدوجہد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا نام ایران کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔