- خبر کاکوڈ: 1733011
مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں مشترکہ اجلاس کے دوران اسرائیلی قبضے کو خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر فوری طور پر صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے شہریوں اور شہری تنصیبات، بالخصوص بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے سے روکنے کا مطالبہ کیا اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان میں چاروں ممالک نے آزادانہ جہاز رانی، محفوظ اور پائیدار بحری آمدورفت اور سمندری سفر کے حقوق و آزادیوں کے تحفظ کو انتہائی اہم قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بحری راستوں میں خلل سے عالمی سپلائی چین اور توانائی، کھاد اور غذائی اشیا کی ترسیل متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں خطے اور اس سے باہر کمزور طبقات کی سلامتی اور بہبود کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے ایسی تمام کارروائیوں یا پابندیوں کو مسترد کیا جو جائز بحری آمدورفت میں رکاوٹ بنتی ہوں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ، بلا رکاوٹ اور مکمل بحری آمدورفت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں دنیا بھر کے عوام میں ناانصافی کے گہرے احساس کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار، مستحکم اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی تشدد فوری طور پر روکنے، مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کا خاتمہ کرنے اور فلسطین میں جاری تباہی و انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں ماضی اور حال کی تمام غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی، جبکہ غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور تعمیر نو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان کے ایک اور حصے میں وزرائے خارجہ نے انصار اللہ کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کو، ان کے بقول، ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اس سے انسانی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ انصار اللہ کے حملوں میں شہریوں، شہری تنصیبات اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مصر، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب اور یمن کی مستعفی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انصار اللہ سے تمام فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور حملے فوری طور پر روکنے اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا۔
مصر، ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو تقویت دینے کے مقصد سے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کے تحت منعقد ہوا۔