اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر سے فوری طور پر ایوانِ نمائندگان سے استعفا دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ان پر جعلی شناخت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

 

 جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الہان عمر کے دستاویزات میں درج مختلف ناموں کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے جعلی نام کے ذریعے امریکی کانگریس میں داخلہ حاصل کیا۔

حالیہ امریکی استغاثہ کے دفتر کی ایک دستاویز میںالہان نور سعید علمی اور الہان عبداللہی عمر کے نام درج ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اسی معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے الہان عمر کے خلاف اپنے الزامات دہرائے۔

ٹرمپ نے صومالیہ پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اس ملک کو نظم و قانون سے عاری قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہاں صرف جرائم کا راج ہے اور لوگ مسلسل ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے صومالیہ کو ’’دنیا کا بدترین ملک‘‘ بھی قرار دیا۔

الہان عمر 2019 میں امریکی کانگریس کا حصہ بننے والی اولین مسلم خواتین میں شامل ہیں اور صومالی نژاد پہلی امریکی رکنِ کانگریس ہیں۔ ٹرمپ پر تنقید اور اسرائیلی حکومت و امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق ان کے مؤقف کے باعث وہ متعدد مرتبہ ریپبلکن رہنماؤں کی تنقید کا نشانہ بن چکی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں وفاقی اہلکاروں نے واشنگٹن میں ان کے گھر کی تلاشی بھی لی اور ان کا موبائل فون اور پاسپورٹ قبضے میں لے لیا۔ یہ کارروائی ان کے امیگریشن اور شہریت سے متعلق ریکارڈ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، جبکہ تفتیش کار ان کے مرحوم والد کے امیگریشن ریکارڈ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس ان اقدامات کو ٹرمپ کی ایک معروف ناقد کو دباؤ میں لانے اور خوف زدہ کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔

الہان عمر نے بھی ٹرمپ کی جانب سے اپنی شہریت منسوخ کرنے اور انہیں جیل بھیجنے کی دھمکیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ان دباؤ کے سامنے خاموش نہیں ہوں گی۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔