جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، منگل۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶ کو تہران میں برطانیہ کے سفیر ہیوگو شورٹر کو وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ وزیر اور مغربی یورپ کے ڈائریکٹر جنرل علیرضا یوسفی نے طلب کیا۔ ملاقات کے دوران برطانوی حکومت کے ایران مخالف اور غیر ذمہ دارانہ مؤقف پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شدید احتجاج سفیر تک پہنچایا گیا۔
علیرضا یوسفی نے برطانوی حکومت کے ایران کے خلاف الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لندن بے بنیاد الزامات عائد کرکے اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتا۔ ان کے مطابق، برطانوی حکام ایران پر الزام تراشی کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں اپنی مبینہ شرکت اور ایران مخالف دہشت گرد گروہوں و عناصر کو طویل عرصے تک پناہ دینے کے حوالے سے جواب دہی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مغربی یورپ ڈویژن کے سربراہ نے برطانیہ کی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں اور ایران مخالف مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات برطانوی حکومت کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانوی حکومت فیئرفورڈ اڈے کے مبینہ واقعے سے متعلق ایران پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت اور دستاویزات جلد از جلد فراہم کرے۔
اس سے قبل برطانیہ کی داخلی سلامتی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ کین مک کلم نے اپنے سالانہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران برطانیہ اور دیگر مقامات پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران پر حساس اہداف، خصوصاً برطانوی فوجی مراکز، کو نشانہ بنانے کی کوششیں بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، برطانوی اعلیٰ حکام نے گزشتہ روز بھی فیئرفورڈ ایئربیس کے مبینہ سکیورٹی واقعے کو ایران سے منسوب کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ایران مخالف مہم کو آگے بڑھانے اور امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں برطانیہ کے کردار پر جواب دہی سے بچنے کی کوشش قرار دیا ہے۔