جماران نیوز ایجنسی کے مطابق، بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برطانیہ نے سعودی عرب کو ایک فضائی ایندھن بردار طیارہ فراہم کیا ہے، لیکن ریاض کی جانب سے مزید دفاعی مدد کے مطالبات پر مغربی ممالک نے اب تک مثبت جواب نہیں دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مغربی حمایت محدود ہونے پر مایوسی کا سامنا ہے، جبکہ ریاض مزید دفاعی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، چار سالہ نسبتاً پُرسکون دور کے بعد انصار اللہ نے بحیرۂ احمر کے ساحلوں اور باب المندب کے قریب واقع شہروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
دوسری جانب، سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات اور ریاض میں ہونے والی ایک کانفرنس سے بڑی تیل کمپنیوں کی مبینہ دوری سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے سعودی عرب کے لیے فضائی سفر کے حوالے سے انتباہ کی اطلاعات نے بھی صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کیا ہے۔