جماران | ایران اور دنیا کی تازہ ترین خبریں، سیاست، معیشت اور فکر

اسلام؛ سلطنت اور ولی عہدی کی نفی

امام خمینی نے کہا کہ سلطنت اور ولی عہدی اسلامی طرزِ حکومت کا حصہ نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق حضرت امام حسینؑ نے یزید کی ولی عہدی قبول کرنے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسی مقصد کے لیے قیام کیا۔

خبر نمبر: ۱۷۳۰۲۰۴
اسلام؛ سلطنت اور ولی عہدی کی نفی

جماران کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینی کے مطابق مشروطہ کے ابتدائی دور میں ایران کا آئین بنیادی طور پر مغربی قوانین سے اخذ کیا گیا اور بعد میں بعض اسلامی احکام اس میں شامل کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئین کے وہ حصے جو سلطنت، ولی عہدی اور اس جیسے نظاموں سے متعلق ہیں، اسلام سے کہاں ثابت ہوتے ہیں؟ ان کے بقول یہ امور اسلامی طرزِ حکومت کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلطنت اور ولی عہدی اسی طرزِ حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے خلاف اسلام نے ابتدا ہی سے جدوجہد کی۔ ان کے مطابق رسول اکرم ﷺ نے روم کے بادشاہ ہرقل اور ایران کے بادشاہ کو اپنے خطوط میں توحید کی دعوت دیتے ہوئے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ انسانوں کو بادشاہوں کی مطلق اطاعت پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں ایک خدا کی عبادت کا حق دیا جائے۔

امام خمینی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کا قیام بھی یزید کی ولی عہدی اور سلطنت کو تسلیم نہ کرنے کے لیے تھا۔ ان کے مطابق اسلام میں سلطنت اور ولی عہدی کے لیے کوئی اصول نہیں، جس طرح اسلام سود خوری، سودی بینکاری، شراب فروشی اور فحشا کے لیے قوانین وضع نہیں کرتا بلکہ ان اعمال کو بنیادی طور پر حرام قرار دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ استعماری طاقتوں کی حمایت یافتہ حکومتیں جب اسلامی معاشروں میں ایسے نظام رائج کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اسلام کے قوانین نامکمل دکھائی دیتے ہیں اور وہ ان معاملات کے لیے برطانیہ، فرانس، بیلجیم اور بعد ازاں امریکا سے قوانین درآمد کرتی ہیں۔

امام خمینی کے مطابق اسلام کا ان امور کے لیے ایسے قوانین فراہم نہ کرنا جنہیں وہ بنیادی طور پر ناجائز سمجھتا ہے، اس کی خامی نہیں بلکہ اس کے کمالات اور امتیازات میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے مشروطہ کے آغاز میں برطانوی استعمار کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سازش کے دو مقاصد تھے۔ ایک مقصد ایران میں زارِ روس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا، جو اسی وقت آشکار ہوگیا تھا، جبکہ دوسرا مقصد مغربی قوانین متعارف کرا کے اسلامی احکام کو عملی میدان اور نظامِ حکومت سے خارج کرنا تھا۔

 

endNewsMessage1

آپ کی رائے