جماران کے مطابق، آیت اللہ سید حسن خمینی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ عظیم فقیہ اور مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کا انتقال حوزہ ہائے علمیہ کے لیے عظیم سانحہ اور بڑا نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن افراد کو آیت اللہ شبیری زنجانی کی خدمت میں علمی استفادے کا موقع ملا، وہ گواہ ہیں کہ وہ دقتِ نظر، وسیع علمی معلومات اور فقہی ذکاوت کے اعتبار سے بے مثال اور کم نظیر شخصیت تھے۔
سید حسن خمینی نے آیت اللہ شبیری زنجانی کے امام خمینیؒ سے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق ان کے والد مرحوم آیت اللہ سید احمد زنجانی اور امام خمینیؒ کی طالب علمی کے زمانے کی خصوصی رفاقت سے شروع ہوا تھا اور انقلاب اسلامی کے بعد بھی کئی برس تک برقرار رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی بلاشبہ حوزہ علمیہ قم کے عظیم ترین ثمرات اور اس علمی و اجتہادی مرکز کے ممتاز و مؤثر اساتذہ میں سے تھے۔ ان کے بقول، خود انہیں بھی کئی برس تک ان کی خدمت میں استفادہ کرنے کا موقع ملا اور دیگر شاگردوں کی طرح یہ سانحہ ان کے لیے دوہرا صدمہ ہے۔
آیت اللہ سید حسن خمینی نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس جلیل القدر فقیہ کو اپنے صالح اولیاء کے ساتھ محشور فرمائے۔ انہوں نے یہ سانحہ امام زمانہؑ، حوزہ ہائے علمیہ، آیت اللہ شبیری زنجانی کے مقلدین، ان کے معزز خاندان، بالخصوص ان کے صاحبزادوں اور برادر گرامی کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے مرحوم کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا کی۔