- خبر کاکوڈ: 1726198
آیت اللہ سید حسن خمینی نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور ملکی منتظمین کو کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں اپنے دور کے اعلیٰ ترین علمی اور عقلی معیار سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا،
جماران کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید حسن خمینی نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور ملکی منتظمین کو کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں اپنے دور کے اعلیٰ ترین علمی اور عقلی معیار سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا، جبکہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی اور عملی میدان سے دور رکھنے کی صورت میں ملک علمی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔
حرم امام خمینیؒ میں پانچویں قومی فیسٹیول ’’اتفاق‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن خمینی نے کہا کہ نوجوان معاشرے کے مسائل کو کسی بھی دوسرے طبقے سے زیادہ قریب سے سمجھتے ہیں، اس لیے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو میدان میں نہ لایا گیا تو ملک علم کی سرحدوں سے پیچھے رہ جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ دور کے تقاضے ایسے ہیں کہ قیادت اور انتظامی نظام کو مسلسل علمی اور عقلی طور پر خود کو جدید بنانا ہوگا۔
سید حسن خمینی نے انقلابِ اسلامی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ توکل کی حقیقی شرط پوری کی گئی۔ ان کے بقول توکل کا مطلب گھر بیٹھ جانا یا صرف تسبیح ہاتھ میں رکھنا نہیں، بلکہ میدانِ عمل میں موجود رہنا اور عملی جدوجہد کرنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حقیقی توکل انسان کو عمل، جدوجہد اور معاشرے کے مسائل کا سامنا کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے میدان میں اترنے کا حوصلہ دیتا ہے۔