- خبر کاکوڈ: 1725595
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی صوبہ خوزستان کے سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ایک رہائشی مکان پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
جماران کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی صوبہ خوزستان کے سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ایک رہائشی مکان پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
بقائی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ میناب، لامرد، قشم اور دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے، جبکہ ان حملوں کو مختلف جواز اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بمباری کا معمول بن جانا خود بم سے زیادہ خطرناک ہے، جبکہ ایسے واقعات پر عالمی حکومتوں اور اداروں کی خاموشی کو غیر جانب داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران ان حملوں کا سخت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک اور عالمی ادارے ایسی کارروائیوں پر خاموش رہتے ہیں یا انہیں جواز فراہم کرتے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ ظلم پر خاموشی اسے روکنے کے بجائے حملہ آوروں کو مزید کارروائیوں کی ترغیب دیتی ہے۔