اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مبینہ کردار پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو دھوکا دے کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل کیا۔

جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مبینہ کردار پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو دھوکا دے کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل کیا۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو عبرانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے امریکی حکومت کو اپنے مفادات کے لیے جنگ میں شامل کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق نیتن یاہو نے ہنستے ہوئے اور طنزیہ انداز میں بتایا کہ امریکی ٹی وی چینلز پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کی میڈیا موجودگی کے ذریعے اس نے امریکی عوام کی رائے اور واشنگٹن کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

عراقچی نے مزید کہا کہ نیتن یاہو جب انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو امریکی صدر کی قیادت اور صلاحیتوں کی تعریف کرتا ہے، جبکہ عبرانی زبان میں اس کا انداز مختلف ہوتا ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر ایرانی وزیر خارجہ نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے صرف ایک لفظ لکھا: زہریلا سانپ

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔