جماران کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمنوں کا خیال تھا کہ ایران کو شدید اقتصادی، فوجی اور سکیورٹی دباؤ کے ذریعے وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ایرانی عوام کی مزاحمت، اتحاد اور یکجہتی نے دنیا کو حیران کر دیا۔
امام خمینی کے مزار پر حکومت کے ارکان کے ساتھ تجدیدِ عہد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ حکومت کے آغاز ہی سے ایران کو جنگ، پابندیوں، مختلف دباؤ اور دہشت گردی کا سامنا رہا، جبکہ ملک کو پانی، بجلی، گیس، ایندھن، ماحولیات اور بینکاری سمیت متعدد شعبوں میں عدم توازن کے مسائل بھی درپیش تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود حکومت نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کی اور ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور اس صورتحال پر عوام سے شرمندہ ہے، تاہم ایران اس وقت مکمل اقتصادی، فوجی اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے شدید پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن ملک کھڑا ہے اور حکومت اس غیر مساوی جنگ میں عوام کی خدمت جاری رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ دشمنوں نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران اندرونی مشکلات کے باعث ٹوٹ جائے گا اور وینزویلا جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔
ان کے بقول،ایران نہ صرف وینزویلا نہیں بنا بلکہ دنیا ایرانی عوام کی طاقت، مزاحمت، اتحاد اور یکجہتی پر حیران رہ گئی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پٹرول کی فراہمی، مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی، سڑکوں، پانی کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے اقدامات کیے۔
ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت کے بارے میں کہا کہ یہ طویل بحث و مذاکرات اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان ماہرین کی سطح پر اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل میں جنگ لڑنے والے اہلکاروں، سکیورٹی حکام، انتظامی ذمہ داران، قانون سازوں، عدالتی حکام اور دیگر متعلقہ افراد نے اپنی رائے اور تجربات پیش کیے۔
پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موجودہ بحرانوں سے نمٹنے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔