جماران کی رپورٹ کے مطابق امام خمینیؒ کے آثار کی تدوین و اشاعت کے ادارے کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین علی کمساری نے کہا ہے کہ سچائی، امانت داری اور اخلاق پسندی امام خمینیؒ کے اہم اخلاقی اصولوں میں شامل تھے، جبکہ عوام ان کی فکر میں محض رسمی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ حقیقی معنوں میں حکمرانی اور معاشرے کا بنیادی محور ہیں۔
علی کمساری نے یومِ صحافت کے موقع پر جماران کے نیوز روم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حساس اور مشکل حالات میں صحافی ایک بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحافت کو دنیا میں مشکل اور نقصان دہ پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے تو گزشتہ ایک سال کے دوران ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے اس پیشے کی مشکلات، دباؤ اور ذہنی تناؤ کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
امام خمینیؒ کے آثار کی تدوین و اشاعت کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ جماران محض ایک نیوز ادارہ نہیں بلکہ اس کے قیام کے پیچھے ایک مخصوص مقصد اور نظریاتی فلسفہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماران کے قیام کا مقصد صرف خبر فراہم کرنا نہیں بلکہ امام خمینیؒ کے نام، افکار اور نظریات کی ترویج اور احیا ہے۔
کمساری نے کہا کہ جماران کو خبر، تجزیے، انٹرویوز اور مضامین کی تیاری میں ہمیشہ امام خمینیؒ کے اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق امام خمینیؒ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک فکر، طرزِ عمل اور طرزِ زندگی کا نام ہے۔
علی کمساری نے امام خمینیؒ کی سچائی اور تقویٰ کی مثال دیتے ہوئے ایک واقعہ بیان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ امام خمینیؒ نے ریڈیو پر نشر کیے جانے کے لیے ایک پیغام بھیجا، تاہم نشر ہونے سے کچھ دیر قبل انہوں نے پیغام واپس منگوا لیا تاکہ اس میں ایک جملے کی اصلاح کرسکیں۔
کمساری کے مطابق امام خمینیؒ نے اپنے پیغام میں ابتدا میں لکھا تھا کہ وہ ’’اپنی پوری توانائی سے‘‘ مجاہدین کے لیے دعا کرتے ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے ’’پوری‘‘ کا لفظ تبدیل کرکے ’’اکثر‘‘ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اس لیے یہ تبدیلی کی کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہتے تھے کہ وہ ہر وقت اپنی پوری توانائی کے ساتھ دعا کر رہے ہیں، کیونکہ بعض اوقات وہ کھانے، ملاقات یا دیگر امور میں مصروف ہوتے تھے۔
کمساری نے کہا کہ تقویٰ اور سچائی وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے امام خمینیؒ کی شخصیت کو تشکیل دیا اور یہی اصول ان کے افکار کو زندہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماران ایک ایسا میڈیا ادارہ ہے جس کے مخاطب عوام ہیں، جبکہ امام خمینیؒ کی فکر میں عوام محض رسمی حیثیت نہیں رکھتے۔
کمساری نے امام خمینیؒ کے معروف مؤقف ’’میزان رائے ملت ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جماران کو اپنی صحافتی ذمہ داریوں میں عوام کی اہمیت اور امام خمینیؒ کی اس فکر کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جماران کو ایسے صحافتی کارکنوں کی ضرورت ہے جو امام خمینیؒ کی فکر کو سمجھتے ہوں اور ان کے اصولوں سے وفادار ہوں۔
کمساری نے امام خمینیؒ کی فکر پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ اگر تنقید سے مراد علمی اجتہاد اور سنجیدہ جائزہ ہے تو یہ ایک مثبت عمل ہے، تاہم یہ کام ایسے افراد کو کرنا چاہیے جو اس شعبے میں صاحبِ نظر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں اکثر اوقات تنقید اور محض اعتراض کو ایک دوسرے سے ملا دیا جاتا ہے، جبکہ غیر علمی اور غیر ماہر تنقید اپنے اندر کئی نقصانات رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا میں اخلاق پسندی اختیار کرنا مشکل ہوگیا ہے، تاہم صحافت کو سچائی، امانت داری اور اخلاق کے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔
تقریب کے دوران جماران کے ذمہ داران اور ادارتی عملے نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ادارے کی سرگرمیوں، خصوصاً 40 روزہ جنگ کے دوران جماران کی صحافتی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی، جبکہ ادارتی ٹیم کے ارکان نے بھی علی کمساری کے سامنے اپنی آرا اور تجاویز پیش کیں۔