اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

عرب لیگ نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں تل میں صہیونی آبادکاروں کی جانب سے مسجد کو آگ لگانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

مغربی کنارے میں مسجد نذرِ آتش کرنے پر عرب لیگ کی شدید مذمت

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب لیگ نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں تل میں صہیونی آبادکاروں کی جانب سے مسجد کو آگ لگانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات پر حملہ خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے اور امن و استحکام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ عبادت گاہوں پر حملے بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

عرب لیگ نے اقوام متحدہ اور اس کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان حملوں کو روکنے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ساتھ ہی اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق صہیونی آبادکاروں کے ایک گروہ نے گاؤں تل میں واقع مسجد ابو بکر صدیق کے داخلی حصے کو آگ لگا دی اور دیواروں پر نسلی تعصب پر مبنی نعرے بھی تحریر کیے۔ تاہم مسجد کو مکمل طور پر جلانے کی کوشش ناکام رہی اور نقصان عمارت کے داخلی حصے تک محدود رہا۔

فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض قوتوں کی سرپرستی میں ایسے حملے کیے جا رہے ہیں اور رواں برس اب تک درجنوں مساجد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس واقعے کو منظم اور فاشسٹ طرز کی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدسات کی بے حرمتی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ مساجد اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر ان حملوں کا مقابلہ کریں، جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔