- خبر کاکوڈ: 1698724
امریکی ریاست نیویارک سے ایوان نمائندگان کی رکن نے ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسی کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی اقدام کی حمایت نہیں کریں گی۔
ایران کے خلاف جنگی مؤقف پر ٹرمپ کو اپنی ہی ملک میں مخالفت کا سامنا
جماران کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریاست نیویارک سے ایوان نمائندگان کی رکن نے ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسی کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی اقدام کی حمایت نہیں کریں گی۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف ہیں جو خطے میں نئی جنگ کا سبب بنے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ کشیدگی اور بارہ روزہ جنگ کے بعد مذاکرات کا نیا دور زیر بحث ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ ایک جانب سفارت کاری کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب ایران کے خلاف دباؤ اور دھمکی آمیز بیانات بھی دیتے رہے ہیں، جس پر امریکی سیاست میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد کانگریس کے بعض دیگر ارکان نے بھی جنگی پالیسی پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان میں جارجیا سے تعلق رکھنے والی سابق رکن کانگریس شامل ہیں، جنہوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام مزید بیرونی جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ معاشی بہتری اور روزمرہ زندگی کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ عوام مہنگائی اور معاشی دباؤ سے نجات چاہتے ہیں اور حکومت کو بیرونی محاذ آرائی کے بجائے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
کاپی ہو گیا