جماران کے مطابق، اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی کے پوتے حجتالاسلام و المسلمین سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ قیام و حضور کے اصل مقصد کے لیے ایمان ضروری ہے۔ ان کے بقول، ایمان صرف الفاظ یا عقائد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل و جان پر اثر ڈالے اور انسان کے اعمال میں ظاہر ہو۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت یا ایہا الذین آمنوا، آمنوا کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آیت ہمیں ایمان کو مکمل کرنے اور اس پر غور و تدبر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمان صرف زبان سے کہنے یا معلومات حاصل کرنے سے نہیں بلکہ اسے دل سے محسوس کرنا اور اس کا عملی اظہار کرنا ضروری ہے۔
سید حسن خمینی نے وضاحت کی کہ قیام خدا کے لیے ہونا چاہیے، اور انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ خدا عالم ہے اور تقدیر کے معاملات پر حکمرانی کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ حکمت، عقل اور تدبیر بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لشکر امیرالمؤمنین(ع) بھی جب معاویہ کے خلاف جنگ میں گئے تو صرف ایمان پر انحصار نہیں کیا بلکہ منصوبہ بندی اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھے۔
یادگار امام نے زور دیا کہ 22 بہمن کا دن ایک موقع ہے کہ عوام ایک بار پھر اپنے ایمان اور عقیدت کا اظہار کریں۔ ان کے مطابق، لوگ اپنی موجودگی سے خدا، ائمہ(ع)، پیغمبر اسلام(ص)، اور لایزال قدرتِ الٰہی پر یقین ظاہر کریں اور اس پر عمل کریں جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے۔