جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور کی سینیئر محقق فاطمہ نیکو لعل آزاد نے گوربا چیف کو امام خمینی رہ کے خط کی تحلیل کرتے ہوئے لکھا کہ امام خمینی کا تاریخی خط، جو انہوں نے دسمبر ۱۹۸۸ میں میخائیل گورباچوف کو بھیجا، صرف سیاسی انتباہ یا اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ عالمی تعلقات کے موجودہ نظریاتی فریم ورک پر ایک گہری تنقید کا حامل ہے۔ یہ خط اتحاد جماہیر شوروی کے زوال سے قبل بھیجا گیا اور عالمی سیاست کے تجزیاتی اصولوں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک متبادل نظریہ پیش کرتا ہے۔
خط میں امام خمینی نے وضاحت کی کہ شوروی کے زوال کی اصل وجہ صرف طاقت یا معیشت نہیں بلکہ انسانی اقدار اور دنیا بینی میں خلا ہے۔ طاقت اور وسائل بغیر روحانی اور اخلاقی بنیاد کے نظام کی بقا کو یقینی نہیں بنا سکتے بلکہ داخلی تنزلی اور زوال کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے حقیقت پسندی کے نظریے پر بھی تنقید کی، جو طاقت کی بنیاد پر ریاستوں کی حرکت کو سمجھتا ہے، کیونکہ اس نظریے میں انسان اور سماج کے معنوی پہلوؤں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اسی طرح انہوں نے لبرل ازم اور ترقی کے خطی نظریے کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ کمیونزم سے سرمایہ داری کی طرف منتقلی صرف مادی طاقت کی تبدیلی ہے اور انسانی معنویت کا نقصان کرتی ہے۔ امام خمینی نے اس کے بدلے ایک متبادل نظریہ پیش کیا جسے وہ "توحیدی معاشرہ" کہتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق عالمی نظام کا محور صرف ریاست یا مادی مفاد نہیں بلکہ انسانی معاشرہ ہے جو خدائی حقیقت اور روحانی اصولوں کی رہنمائی میں چلتا ہے۔ طاقت، ترقی اور سلامتی کی تعریف صرف مادی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی اقدار کے تابع ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ خط بین الاقوامی تعلقات میں معنویت اور روحانیت کو مرکزی حیثیت دینے والا ایک نادر متن ہے اور موجودہ عالمی حالات میں صرف مادی تجزیوں کی ناکامی اور نظریاتی بنیادوں پر دوبارہ غور و فکر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔