جماران | ایران اور دنیا کی تازہ ترین خبریں، سیاست، معیشت اور فکر

ایران نے افزودہ یورینیئم سے متعلق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کو جانبدار قرار دے دیا

ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی رپورٹ کو جانبدار اور سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی تمام نیوکلیئر سرگرمیاں شفاف اور IAEA کی نگرانی میں ہیں، اور ملک کے دفاعی نظریے میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایران نے زور دیا کہ پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنا اس کا حق ہے اور کوئی سرگرمی چھپائی نہیں گئی۔ واضح رہے کہ IAEA نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کے افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔

خبر نمبر: ۱۶۷۰۲۰۶
ایران نے افزودہ یورینیئم سے متعلق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کو جانبدار قرار دے دیا
شفقنا اردو: ایران نے افزودہ یورینیئم سے متعلق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کو جانبدار قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کو سیاسی اور جانبدا رقرار دیتے ہوئے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے ملٹری ڈاکٹرائن میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں اور اس ضمن میں ایران کی تمام تر سرگرمیاں IAEA کی زیر نگرانی اور مکمل شفاف ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پر امن مقاصد کے لیے نیوکلیئر توانائی داخلی سطح پر تیارکرنے پرکوئی عالمی پابندی نہیں اور ایران کی کوئی ایسی تنصیب یا سرگرمی نہیں جو ظاہر نہ کی گئی ہو۔
واضح رہے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے میں اضافہ کرلیا ہے جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح کے قریب ہے۔

 

endNewsMessage1

آپ کی رائے