- خبر کاکوڈ: 1733005
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں امریکی جنگی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے امریکی بحریہ کو، جسے ٹرمپ اور امریکی حکام اپنے ملک کی طاقت کی علامت سمجھتے ہیں اور جس کے ذریعے خطے اور دنیا کو دھمکایا جاتا ہے، غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ اب خلیج فارس کے اطراف کے سمندروں اور ایران کے علاقائی پانیوں کے قریب آنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
عبداللہی نے کہا کہ امریکی صدر کو یہ صرف خواب میں ہی دیکھنا پڑے گا کہ امریکی فوج اور بحریہ دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہوں۔ ان کے بقول، امریکہ یہ خواہش ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں امریکی فوجی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی کمانڈر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں پر بھی تنقید کی کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف امریکہ بارہا ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری جانب مسلسل یہ کہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے بقول، یہ واضح تضاد ہے۔
عبداللہی نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکہ نے واقعی ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور صلاحیتیں تباہ کردی ہیں تو پھر ایک ہی دعوے کو بار بار دہرانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے ان بیانات کو عالمی رائے عامہ، بالخصوص امریکی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
عبداللہی نے مزید کہا کہ اگر امریکہ کو یقین ہے کہ اس نے ایران کی تمام فوجی صلاحیتیں ختم کردی ہیں تو پھر اس کے جنگی بحری جہاز اور فوجی اہلکار آبنائے ہرمز، ایران کی سمندری حدود اور زمینی سرحدوں کے قریب آنے کی جرأت کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت، عوام، مسلح افواج اور حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس دلدل میں مزید دھکیلا جائے گا جو ان کے بقول انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اللہ کی مدد اور نصرت سے مضبوط ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ جتنا یہ مقابلہ طویل ہوگا، امریکہ اور اس کے اتحادی اتنا ہی زیادہ اس دلدل میں دھنسیں گے۔