اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایران کی جانب سے مزاحمت جاری رہنے اور جنگ کے طویل ہونے کے امکانات پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

جماران کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی مشیروں نے نجی ملاقاتوں میں انہیں خبردار کیا ہے کہ ایران امریکی دباؤ، محاصرے اور فوجی کارروائیوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور جنگ جنوری 2029 میں اگلے امریکی صدر کی حلف برداری تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نائب صدر جے ڈی ونس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے وائٹ ہاؤس اور سچویشن روم میں ٹرمپ سے اس امکان پر گفتگو کی کہ تہران امریکی کارروائیوں کے مقابلے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

یہ صورتحال ٹرمپ کے عوامی بیانات سے متضاد ہے۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران مزید مزاحمت نہیں کرسکتا اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ فوری طور پر ختم ہوجائے گی۔

امریکی اخبار نے خبردار کیا کہ جنگ کے کئی سال تک جاری رہنے سے امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جبکہ 2028 کے صدارتی انتخابات کے قریب عالمی تیل کی منڈی میں طویل مدتی عدم استحکام کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ نے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کے مشیر ایران کی جانب سے حملوں کے طریقہ کار میں تبدیلی، میزائلوں، ڈرونز، ریڈارز اور دیگر فوجی سازوسامان کے ذخائر دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت پر پہلے سے زیادہ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ نجی گفتگو میں متعدد بار جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ظاہر کرچکا ہے تاہم جنگ کے ساتویں ماہ میں داخل ہونے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں مشیروں کی جانب سے طویل جنگ کے خدشات کا اظہار صدر کے ان دعوؤں کے برعکس ہے کہ ایران جلد شکست تسلیم کرلے گا۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔