اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف مذہبی آزادیوں پر مبینہ پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں سیکیورٹی اداروں نے مذہبی رسومات اور جلوسوں کے انعقاد میں شرکت کے الزام میں 9 شہریوں کو گرفتار کرلیا۔

جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف مذہبی آزادیوں پر مبینہ پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں سیکیورٹی اداروں نے مذہبی رسومات اور جلوسوں کے انعقاد میں شرکت کے الزام میں 9 شہریوں کو گرفتار کرلیا۔

بحرین کی اسلامی جمعیت الوفاق کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے متعدد شہریوں کو تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا۔ جمعیت کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ملک میں شیعہ شہریوں کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

الوفاق کے مطابق گزشتہ ماہ اگست کے دوران 4 نوجوانوں کو امام حسن عسکریؑ کی عزاداری کے لیے قائم ماتمی موکب میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک اور شہری کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن اینڈ فارنزک ایویڈنس کے دفتر طلب کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔

ستمبر کے آغاز کے بعد بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک شہری کو البدیع پولیس مرکز میں طلب کیے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا، جبکہ مزید 3 شہریوں کو باضابطہ طلبی کے بعد القضیبیہ پولیس مرکز پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا۔

جمعیت الوفاق نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کے پولیس مراکز شہریوں کی مبینہ خودسرانہ گرفتاری اور مذہبی شعائر کی ادائیگی کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بحرینی تنظیم کے مطابق حالیہ گرفتاریاں ملک میں شیعہ شہریوں کی مذہبی آزادیوں پر عائد مبینہ پابندیوں اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔