اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

امام خمینیؒ نے ولادتِ باسعادت حضرت محمد مصطفیٰ ص کو ایک مبارک اور مقدس دن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جب انسانیت کی اصلاح اور عظیم تبدیلی کے لیے عالمِ بشریت کی سب سے عظیم شخصیت دنیا میں تشریف لائی۔

جماران کی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ نے ولادتِ باسعادت حضرت محمد مصطفیٰ ص کو ایک مبارک اور مقدس دن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جب انسانیت کی اصلاح اور عظیم تبدیلی کے لیے عالمِ بشریت کی سب سے عظیم شخصیت دنیا میں تشریف لائی۔

2 فروری 1981ء کو میلادِ باسعادت حضرت رسولِ اکرم ص اور آپؐ کے فرزندِ گرامی حضرت امام جعفر صادقؑ کی ولادت کی مناسبت سے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے حسینیہ جماران میں امام خمینیؒ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امام خمینیؒ نے رسولِ اکرم ص کی بعثت و ولادت کے پیغام اور انسانیت کی رہنمائی میں آپؐ کے کردار پر روشنی ڈالی۔

امام خمینیؒ نے فرمایا کہ رسولِ اکرم  ص کی آمد نے انسانوں کو شرک، الحاد، آتش پرستی اور دیگر تمام انحرافات سے نکال کر استقامت، توحید اور اللہ کی بندگی کی طرف رہنمائی کی۔ آپؐ نے انسانیت کو صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی اور کفر و الحاد کی تاریکیوں سے نکال کر نورِ مطلق کی جانب رہنمائی فرمائی۔

انہوں نے اس دن کو انسانیت کے لیے نوید اور استقامت کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم  ص کے حقیقی پیروکار وہ ہیں جو اسی راستے اور اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں، اپنی اصلاح سے آغاز کرتے ہیں اور اس پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔

امام خمینیؒ نے نوجوانوں، بالخصوص طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں ملت کی امید قرار دیا اور تاکید کی کہ وہ اس راستے کو جاری رکھیں جس کے لیے عظیم قربانیاں دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق انبیائے الٰہی نے انسانیت کے سامنے صراطِ مستقیم رکھا اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ص نے انسانوں کو اسی راستے کی دعوت دے کر انسانیت کی حقیقی منزل کی جانب رہنمائی فرمائی۔

امام خمینیؒ کے مطابق نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات اور مکتبِ حضرت امام جعفر صادقؑ کی پیروی کرتے ہوئے انسانیت، توحید، استقامت اور حق کی راہ پر ثابت قدم رہیں۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔