اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

فلسطینی اسلامی جہاد کے نائب سیکریٹری جنرل محمد الہندی نے کہا ہے کہ طوفان الاقصیٰ ایک تاریخی واقعہ ہے جس نے خطے کی سیاست اور مستقبل کا رخ نئے سرے سے متعین کردیا ہے۔

طوفان الاقصیٰ فلسطین اور خطے کی تاریخ کا رخ بدل دے گا:جہاد اسلامی

جماران کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی اسلامی جہاد کے نائب سیکریٹری جنرل محمد الہندی نے کہا ہے کہ طوفان الاقصیٰ ایک تاریخی واقعہ ہے جس نے خطے کی سیاست اور مستقبل کا رخ نئے سرے سے متعین کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معرکے کے نتائج آنے والی کئی دہائیوں تک فلسطین اور پورے خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے۔

محمد الہندی نے فلسطینی انتخابات کے حوالے سے کہا کہ اسلامی جہاد آئندہ انتخابات میں اپنے امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی، تاہم تمام فلسطینی دھڑوں کے اتفاق رائے سے بننے والی کسی مشترکہ قومی فہرست کی حمایت کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان مشاورت جاری ہے جس کا مقصد ایک متحد قومی فہرست تشکیل دینا اور موجودہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے فلسطینی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔

الہندی نے کہا کہ اسلامی جہاد فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے انتخابات کے انعقاد پر اصرار کے باوجود قومی اتفاق رائے قائم ہونے تک انتخابات مؤخر کرنے کی حامی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوامی نمائندگی کے اداروں، خصوصاً فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او)، کی اصلاح اور ازسرنو تشکیل پر جامع قومی اتفاق ضروری ہے۔

انہوں نے موجودہ انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طریقہ کار سے فلسطینی عوام کی حقیقی خواہشات پوری نہیں ہوتیں بلکہ ان کے حقِ خودارادیت کو محدود کرنے کا خدشہ ہے۔

اسلامی جہاد کے رہنما نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ قومی معاہدوں کو بنیاد بنا کر تمام سیاسی قوتوں کو فلسطینی اداروں کی تشکیل نو میں شامل کیا جانا چاہیے۔

محمد الہندی نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے اور اسرائیل کی جانب سے یہ الزام کہ فلسطینی مزاحمتی گروہ ایران کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ ایک تاریخی مرحلہ تھا جس نے خطے کے حالات کو تبدیل کردیا ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں بھی نمایاں رہیں گے۔

اسلامی جہاد کے نائب سیکریٹری جنرل نے عرب حکومتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ متعدد عرب و اسلامی ممالک نے فلسطینی عوام کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

ان کے مطابق خطے میں جاری جنگ نے امریکا کے فوجی اڈوں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جن پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔

محمد الہندی نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت کو ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کے پاس جدید ترین ہتھیار اور عالمی طاقتوں کی حمایت موجود ہے، جبکہ غزہ کے عوام طویل عرصے سے جاری قتل عام اور بھوک کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔

محمد الہندی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان آئندہ قانون ساز انتخابات کی تیاری کے لیے مشاورت جاری ہے۔ مختلف فلسطینی دھڑے ایک وسیع قومی فہرست تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں حماس، اسلامی جہاد، فتح کا محمد دحلان کی قیادت والا دھڑا، ناصر القدوہ کی قیادت میں ڈیموکریٹک نیشنل اسمبلی، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور ڈیموکریٹک فرنٹ برائے آزادی فلسطین سمیت دیگر گروہ شامل ہیں۔

تاہم فلسطینی دھڑوں کے درمیان سیاسی اور نظریاتی اختلافات بدستور موجود ہیں جبکہ انتخابات کے انعقاد کی مقررہ تاریخ، انتخابی شرائط اور مختلف جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کے حوالے سے بھی کئی سوالات برقرار ہیں۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔