اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

اسلامی وحدت کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے دوسرے پینل سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ عالمِ اسلام اس وقت اہم اور حساس حالات سے گزر رہا ہے، جہاں مختلف شعبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور نئی طاقتیں عالمی منظرنامے میں ابھر رہی ہیں۔

جماران کے مطابق اسلامی وحدت کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے دوسرے پینل سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ عالمِ اسلام اس وقت اہم اور حساس حالات سے گزر رہا ہے، جہاں مختلف شعبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور نئی طاقتیں عالمی منظرنامے میں ابھر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کو قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اتحاد کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی قرآنی ہدایت مسلمانوں کے لیے واضح رہنما اصول ہے۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ امام خمینیؒ نے ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد، بالخصوص شیعہ اور سنی اختلافات کو باہمی احترام اور اخلاق کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ اتحاد کا مطلب مختلف مذہبی شناختوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے فلسطین کے مسئلے کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کا اہم محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین محض ایک جغرافیائی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ سے متعلق معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ اسلامی مقدسات میں شامل ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمان مشترکہ ذمہ داریوں کے حامل ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ امتِ مسلمہ کا رشتہ جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہے۔

انہوں نے امام خمینیؒ کی بین المذاہب فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے افراد اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی مشترکہ مقاصد کے لیے ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے اتحاد پہلے سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ تفرقے کی صورت میں امت کی اجتماعی قوت کمزور ہوجاتی ہے اور مسلم نوجوانوں کی توانائیاں باہمی اختلافات اور غیر ضروری تنازعات میں ضائع ہوسکتی ہیں۔

ملک معتصم خان نے زور دیا کہ مسلمانوں کو قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے ہوئے باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے اور عدل و امن کے قیام کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو تفرقے سے محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو اتحاد، انصاف اور امن کے مشترکہ مقصد کے لیے ایک صف میں کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔