- خبر کاکوڈ: 1724631
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق خطے میں نئے علاقائی نظم کی تشکیل، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں، فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
علاقائی نظم کی تشکیل میں ایران اور عراق کا کردار فیصلہ کن ہے:قالیباف
جماران کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق خطے میں نئے علاقائی نظم کی تشکیل، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں، فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
قالیباف نے عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ فائق زیدان سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنے اور مغربی ایشیا و عالمِ اسلام میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے مقصد سے کیا تھا، تاہم ایرانی عوام، شہدا اور مزاحمتی محاذ کی کوششوں کے باعث امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو ایران کے خلاف فوجی اور سیاسی محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اقتصادی اقدامات میں بھی اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ قالیباف نے عراق سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کو عراقی حکومت اور عوام کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ انخلا مکمل طور پر عراق کی زمینی اور فضائی حدود سے عمل میں آئے گا۔
ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی حکمتِ عملی جنگ کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانا ہے۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوجاتا تو اس کے بعد دیگر علاقائی ممالک کو بھی نشانہ بنایا جاتا۔
قالیباف نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے والے معاملات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ انہوں نے غزہ کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران شیعہ مسلمانوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں تعاون اور سلامتی کے لیے اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب فائق زیدان نے ایران کے ساتھ تعاون کے لیے عراق کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون، معاہدے اور اتحاد سازی ہی عدمِ تحفظ سے نکلنے کا راستہ ہیں۔
زیدان نے ایران اور عراق کے دوستانہ تعلقات کو دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے ایک سازگار بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے عراق کے لیے ماضی میں دی جانے والی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام ایرانی شہدا، خصوصاً جنرل قاسم سلیمانی، کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے۔