- خبر کاکوڈ: 1722477
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور تہران کو ان دونوں ہمسایہ ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے کسی قسم کی تشویش نہیں۔
جماران کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور تہران کو ان دونوں ہمسایہ ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے کسی قسم کی تشویش نہیں۔
مکہ معاہدے اور اس حوالے سے پاکستان و ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو اس معاملے سے کسی حد تک آگاہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے تین ہمسایہ ممالک، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے حوالے سے تشویش کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ ان ممالک کے ساتھ ایران کے گہرے مذہبی اور تہذیبی روابط موجود ہیں۔
بقائی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران اور ترکیہ کے درمیان دوستی اور تعاون کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اس بات کی اہم علامت ہے کہ علاقائی ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے سیکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کرسکتے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ خطے کے ممالک اب علاقائی سلامتی کے لیے متبادل طریقہ کار آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو باہمی تعاون اور علاقائی ممالک کی شراکت پر مبنی ہو۔
مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت اور ایران کے اس میں شامل ہونے کے امکان سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ ایران خود طویل عرصے سے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی سیکیورٹی نظام کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف منصوبے اب بھی موجود ہیں اور ضرورت کے مطابق انہیں نئے حالات سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔
بقائی کے مطابق تہران خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ تمام ممالک اجتماعی علاقائی سلامتی کے حصول کے لیے بہترین اور مؤثر راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی سلامتی بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون، اعتماد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں یقینی بنائی جاسکتی ہے۔