- خبر کاکوڈ: 1720569
آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ امام خمینی کا نام قوم کے لیے چراغِ راہ ہے اور جنگ کے دوران حکومت کی کامیاب کارکردگی کو نظرانداز کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
جماران کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینی رہ کے پوتےآیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ امام خمینی کا نام قوم کے لیے چراغِ راہ ہے اور جنگ کے دوران حکومت کی کامیاب کارکردگی کو نظرانداز کرنا انصاف کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ظالمانہ جنگ سے سرخرو اس لیے نکلا کیونکہ یہ ایک عظیم تہذیب، مضبوط ریاستی ڈھانچے اور گہری تاریخی شناخت کا حامل ملک ہے۔
جماران حسینیہ میں وزارتِ ثقافتی ورثہ، سیاحت اور دستکاری کے وزیر اور اسٹریٹجک کونسل کے ارکان سے ملاقات کے دوران سید حسن خمینی نے یونیسکو میں قلعہ الموت کے اندراج پر متعلقہ حکام کو مبارک باد دی اور کہا کہ کسی تاریخی مقام کا عالمی فہرست میں شامل ہونا سفر کا آغاز ہے، اصل ذمہ داری اس کے تحفظ، دیکھ بھال، ترقی اور سیاحتی امکانات کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے گزشتہ چند ماہ، خصوصاً جنگی حالات میں حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان مشکل دنوں کی تاریخ مستقبل میں لکھی جائے گی۔ رمضان، عید اور جنگ جیسے سخت حالات کے باوجود عوام کو کسی بڑی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس لیے حکومت کی کامیابیوں کو تسلیم نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔
سید حسن خمینی نے سورۂ شعراء کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ان کا نام آنے والی نسلوں میں زندہ رہے، کیونکہ بعض شخصیات قوموں کی علامت بن جاتی ہیں اور ان کا نام تہذیب و تمدن کی بقا کا ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دیتی ہے، وہ اپنا مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔ ایران اس ظالمانہ جنگ سے اس لیے کامیابی کے ساتھ نکلا کیونکہ اس کے پاس عظیم تہذیب، سو سال سے زیادہ پر محیط مضبوط ریاستی ڈھانچہ، مستحکم انتظامی اور نظریاتی نظام اور ایک شاندار تاریخی پس منظر موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرچم، تاریخی شخصیات اور قومی علامات کسی بھی قوم کی شناخت کا حصہ ہوتی ہیں۔ اگر یہ علامات فراموش کر دی جائیں تو قوم اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ ثقافتی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔
یادگارِ امام نے کہا کہ امام خمینی کا نام انقلاب کی سب سے اہم علامت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق رہبرِ انقلاب نے قومی ترانے میں امام کا نام شامل کرنے پر زور دیا تھا، کیونکہ یہ نام قوم کے لیے چراغِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے امام کو نہیں بلکہ پوری قوم کو فائدہ پہنچتا ہے، البتہ اس سلسلے میں تبلیغ ہمیشہ متوازن، منطقی اور معقول ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قوت اس کی مضبوط تہذیبی بنیادوں میں ہے۔ ایرانی معاشرے کی تشکیل میں رسول اکرم ﷺ، اہلِ بیتؑ اور اسلامی تعلیمات کا بنیادی کردار رہا ہے، اس لیے ایران کی شناخت کو ان عناصر سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سید حسن خمینی نے زور دیا کہ بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف طاقتور سیاسی، انتظامی اور نظریاتی نظام ہی کافی نہیں بلکہ ایک مضبوط تہذیبی اور ثقافتی بنیاد بھی ضروری ہے، اور ثقافتی ورثے کا تحفظ اسی قومی شناخت اور مستقبل کی تعمیر کا اہم ستون ہے۔