اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی شخصیت اتنی عظیم ہے کہ جن کی عظمت اور خصوصیات، اور شان و منزلت کے بارے میں تمام مسلمان فرقوں کے درمیان اتفاق نظر پائی جاتی ہے دنیا کے تمام مسلمان حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں

اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد امیرالمومنین جیسا کوئی نہیں

امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی شخصیت اتنی عظیم ہے کہ جن کی عظمت اور خصوصیات، اور شان و منزلت کے بارے میں تمام مسلمان فرقوں کے درمیان اتفاق نظر پائی جاتی ہے دنیا کے تمام مسلمان حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ عظیم ہستی، یہ بے مثال شخصیت، یہ اسلام کا کامل مظہر، ایک لمحے کے لئے بھی پیغمبر اسلام کی پیروی سے غافل نہیں ہوا، حضرت علی (ع) نے بچپن سے لے کر زندگی کے آخری لمحہ تک خداوندمتعال، اسلام اور پیغمبر اسلام کے لئے مجاہدت کے سلسلے میں ایک لمحہ کے لئے بھی کوئي کوتاہی نہیں کی۔

امام خمینی رحمہ اللہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں فرماتے ہیں: امت مسلمہ کے امام کی شخصیت ایسی ہے کہ اسلام میں، اسلام سے پہلے اور اس کے بعد کسی کو بھی ان کی مانند تلاش کرنا ناممکن ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے اندر متضاد صفات پائی جاتی ہیں۔ جو شخص جنگجو ہوتا ہے وہ اہل عبادت نہیں ہوتا، جو طاقت کے بل بوتے پر زندگی بسر کرتا ہے وہ زاہد و پرہیزگار نہیں ہو سکتا، جو ہمیشہ تلوار چلاتا ہو اور منحرف افراد کو سیدھے راستے پر لگاتا ہو وہ لوگوں پر مہربان نہیں ہو سکتا لیکن حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس ذات کا نام ہے جس میں متضاد صفات پائی جاتی تھیں۔ وہ دنوں کو روزے رکھتے تھے اور راتوں کو عبادت میں مصروف رہتے تھے اور تاریخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک رات میں ہزار رکعت نماز بھی پڑھا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کا کھانا جو کی روٹی اور نمک ہوتا تھا اور اسی جو کی روٹی اور نمک کے باوجود ان کی جسمانی طاقت اتنی تھی کہ انہوں نے باب خیبر کو اکھاڑ کر دور پھینک دیا جس کے بارے میں تاریخ نے لکھا ہے کہ چالیس افراد مل کر بھی اسے ہلا نہیں سکتے تھے۔ ان کا تلوار چلانے کا انداز یہ تھا کہ جس کے اوپر وہ تلوار چلی اس کے دو ٹکڑے کر دیتی تھی جبکہ جن پر تلوار چلتی تھی وہ زرہ پوش ہوتے تھے اور بعض اوقات تو دو زرہیں پہنتے تھے لہذا حضرت علی علیہ السلام ایسی ذات ہیں جو مختلف متضاد صفات کے حامل تھے۔

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔