- خبر کاکوڈ: 1698383
بھارت کی حزبِ اختلاف کانگریس کے سینئر رہنما رندیپ سنگھ سورجوالا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ایران اور روس سے تیل کی خریداری محدود کر کے ملک کی خودمختاری اور توانائی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔
مودی حکومت نے ایران سے تیل کی خریداری محدود کر کے ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے
بھارت کی حزبِ اختلاف کانگریس کے سینئر رہنما رندیپ سنگھ سورجوالا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ایران اور روس سے تیل کی خریداری محدود کر کے ملک کی خودمختاری اور توانائی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سورجوالا نے بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے دباؤ کو قبول کرنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری روکنے کا عہد کر چکا ہے۔
سورجوالا کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں نئی دہلی کو امریکہ اور وینزویلا سے زیادہ قیمت پر تیل خریدنا پڑے گا، جو بھارت کی معاشی خود انحصاری اور توانائی پالیسی کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی خودمختاری کے ساتھ براہ راست سمجھوتہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ بھارت دنیا کے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران اس نے ایران اور روس سے نسبتاً کم قیمت پر تیل حاصل کیا ہے۔ تاہم مغربی پابندیوں کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے دباؤ میں اضافے کے بعد اس معاملے پر اندرونِ ملک بحث تیز ہو گئی ہے۔
سورجوالا نے معاہدے کی ایک اور شق پر بھی سوال اٹھایا جس کے تحت بھارت آئندہ پانچ برسوں میں سالانہ 100 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا خریدنے کا پابند ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے بدلے واشنگٹن کی جانب سے کوئی واضح رعایت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ معاہدہ برابری کی بنیاد پر ہے یا دباؤ کا نتیجہ؟
مخالف سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ تیل کی درآمدات اور تجارتی پابندیوں سے متعلق شقوں پر مزید شفافیت کی ضرورت ہے۔ سورجوالا نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کی معاشی اور توانائی پالیسی کی آزادی سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔