- خبر کاکوڈ: 1696373
حجت الاسلام والمسلمین سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصل طاقت ہمیشہ عوام رہے ہیں اور دشمنوں کی بنیادی سازش یہ ہے کہ قوم کو آپس میں تقسیم کر دیا جائے۔
جماران کے مطابق، امام خمینیؒ کے پوتے،حجت الاسلام والمسلمین سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصل طاقت ہمیشہ عوام رہے ہیں اور دشمنوں کی بنیادی سازش یہ ہے کہ قوم کو آپس میں تقسیم کر دیا جائے۔
سرکاری تقریب کے دوران، جہاں کابینہ کے اراکین نے امام خمینیؒ کے افکار سے تجدیدِ عہد کی، سید حسن خمینی نے حالیہ ملکی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال انقلابِ اسلامی کی سالگرہ ایک تلخ سانحے کے سائے میں منائی جا رہی ہے جس میں متعدد ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک مکمل صہیونی سازش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خدا نے اسلامی جمہوریہ ایران کو شہدا کے پاک خون، اہلِ بیتؑ کی دعاؤں اور رسولِ اکرم ﷺ کی خاص توجہ کے باعث ایک خطرناک مرحلے سے بحفاظت گزار دیا۔
سید حسن خمینی نے زور دیا کہ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کا راز نہ مسلح جدوجہد تھا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں، بلکہ امام خمینیؒ نے ابتدا ہی سے عوامی طاقت، یعنی ’’نرم قوت‘‘ پر انحصار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امام خمینیؒ نے کبھی مسلح جدوجہد کو اولین راستہ قرار نہیں دیا بلکہ عوامی بیداری کو اصل ذریعہ سمجھا۔
انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ امریکی سفیر ولیم سلیوان نے بھی اعتراف کیا تھا کہ امام خمینیؒ میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ آدھے گھنٹے میں لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لا سکتے تھے۔
یادگارِ امام نے کہا کہ انقلاب کے حقیقی محافظ وہ عوام تھے جنہوں نے کم ترین فوائد کے باوجود جنگ، بحرانوں اور حالیہ فتنوں میں ملک کو سنبھالا۔ ان کے مطابق، وہی لوگ جنہوں نے جنگ میں قربانیاں دیں، کردستان، خوزستان، بلوچستان اور آذربائیجان میں ملکی وحدت کو محفوظ رکھا، آج بھی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں کا اصل ہدف نہ صرف نظام کا خاتمہ ہے اور نہ ہی ملک کی تقسیم، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی قوم آپس میں ٹکرا جائے۔ اگر قوم تقسیم ہو گئی تو دشمن اپنے تمام مقاصد حاصل کر لے گا۔
سید حسن خمینی نے زور دیا کہ اختلاف رکھنے والوں سے بات چیت کی جائے، غلطیوں کو تسلیم کیا جائے اور انہیں درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ بننا ہوگا، دلوں کو جوڑنا ہوگا اور اتحاد کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت صرف فوج، سکیورٹی ادارے یا ہتھیار نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں نظام کے لیے اعتماد اور ایمان ہے۔ اگر عوام ساتھ ہوں تو کوئی بیرونی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سید حسن خمینی نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد سی آئی اے اور موساد نے مکمل قوت کے ساتھ نفسیاتی اور میڈیا جنگ چھیڑی، مگر جس طاقت نے اس سازش کو ناکام بنایا وہی طاقت تھی جس نے انقلاب کو کامیاب کیا تھا — یعنی عوام۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو گلے لگائیں، خود کو ایک خاندان سمجھیں اور یاد رکھیں کہ ایران کی بقا اتحاد، عوامی اعتماد اور باہمی ہم آہنگی میں مضمر ہے۔