- خبر کاکوڈ: 1694074
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچنے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو سب سے بڑا خطرہ صہیونی حکومت کی جانب سے درپیش ہے، اور شاید یہ خطرہ اس سے پہلے کبھی اتنا شدید نہیں رہا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران خطے کے سات ممالک، جن میں ایران اور لبنان بھی شامل ہیں، صہیونی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
جماران نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچنے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو سب سے بڑا خطرہ صہیونی حکومت کی جانب سے درپیش ہے، اور شاید یہ خطرہ اس سے پہلے کبھی اتنا شدید نہیں رہا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران خطے کے سات ممالک، جن میں ایران اور لبنان بھی شامل ہیں، صہیونی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ لبنان کی سرزمین کے بعض حصے اب بھی صہیونی قبضے میں ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی جنگ بندی کو اسرائیل نے بارہا پامال کیا اور اپنے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد لبنان کے صدر، اسپیکر پارلیمنٹ، وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ان خطرات اور چیلنجز پر تفصیلی اور قریبی مشاورت کرنا ہے۔ خطے کے امن و استحکام کے قیام میں لبنان کا کردار کلیدی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مشاورت میں مصروف ہے اور لبنان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے لیے ایک نہایت اہم مرحلے پر ہو رہا ہے۔ دورے کا دوسرا مقصد ایران اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور لبنان کے درمیان طویل عرصے سے سفارتی اور سیاسی تعلقات موجود ہیں، ساتھ ہی اقتصادی اور ثقافتی روابط بھی رہے ہیں۔ ایران خاص طور پر اقتصادی شعبے میں ان تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ دورے کے دوران لبنان کے وزیر معیشت سے بھی ملاقات ہوگی تاکہ تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ایران اور لبنان کے درمیان تجارت 110 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو قابل ذکر اضافہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے لبنان کی علاقائی سالمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران ہمیشہ لبنان کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ ایران کی پالیسی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی دعوت سے متعلق سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل پہلے بھی ایران پر حملے کی کوشش کرچکے ہیں اور اپنے مقاصد میں ناکام رہے ہیں، اور آئندہ بھی ایسا ہی نتیجہ نکلے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے، چاہے وہ جنگ ہو یا مذاکرات، تاہم مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جس دن امریکہ یہ بات تسلیم کرلے کہ مذاکرات کا مطلب حکم تھوپنا نہیں، اسی دن بامعنی مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا اور مختلف نتائج سامنے آئیں گے۔
اس موقع پر لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے نمائندے خلیل حمدان نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لبنان اسرائیل کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان ان تمام قوتوں کا مقروض ہے جنہوں نے اسے طاقت دی، چاہے وہ عوام ہوں، فوج ہو یا مقاومت۔
خلیل حمدان نے کہا کہ صہیونی دشمن کا انخلا، لبنان کی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کا قیام لبنانی قیادت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور لبنان کے درمیان اقتصادی معاہدوں پر بھی کام ہو رہا ہے، جن سے دونوں ممالک کو مشترکہ فوائد حاصل ہوں گے۔