- خبر کاکوڈ: 1690511
جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے معروف مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ امید پورٹل یا تو لاعلمی سے بنایا گیا تھا یا جان بوجھ کر لوگوں کو ان کی وقف املاک کو رجسٹر کرنے سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ضلع میں صرف ایک متولی ہی اندراج کر سکتا ہے، حالانکہ متعدد وقف ہیں۔
ایک ہی جگہ پر واقع ایک مسجد، امام باڑہ اور قبرستان کو صرف ایک کے لیے رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ ایک وقف میں متعدد کھسرے ہوتے ہیں، لیکن پورٹل پر صرف ایک کو ہی قبول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جب دوسرے سرکاری پورٹل آسانی سے کام کر رہے ہیں تو امید پورٹل بار بار کیوں کریش ہو رہا ہے۔
کاپی ہو گیا