اردو ویب سائٹ - بیٹا ورژن

اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر شمالی اور جنوبی غزہ کی متعدد آبادیوں کو شدید فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا ہے،

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر شمالی اور جنوبی غزہ کی متعدد آبادیوں کو شدید فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ علاقائی میڈیا کے مطابق بمباری آتش‌بسی کے اعلان کے باوجود بلاوقفہ جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح کے شمال مشرقی علاقوں پر شدید بمباری کی، جس کے ساتھ ہی اسرائیلی ٹینکوں نے بھی ان علاقوں کو بھاری گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں بھی فضائی حملے اور توپ خانے کی آگ مسلسل جاری ہے اور رہائشی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

شمالی غزہ میں بیت لاهیا اور اس کے اطراف کے علاقوں پر بھی اسرائیلی فوج نے زمین اور فضا سے شدید حملے کیے۔ مشرقی بیت لاهیا کا علاقہ التعلیم اس وقت بھاری بمباری اور توپ خانے کی آگ کے زیرِ اثر ہے۔

مقامی رپورٹس کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کہ غزہ میں آتش‌بس کے نفاذ کا اعلان ہو چکا ہے، مگر اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام ہے اور عالمی ثالثوں کی خاموشی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر جنگ مسلط کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کا مقصد حماس کو ختم کرنا اور اسیر اسرائیلیوں کو واپس لانا ہے، لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا۔

بعد ازاں حماس نے 17 مهر 1404 کو اعلان کیا کہ اس کے اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے فوراً بعد 18 مهر 1404 کو اسرائیلی فوج نے آتش‌بس کے نفاذ کی باضابطہ تصدیق کی اور کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج غزہ کے بعض مخصوص علاقوں میں موجود رہیں گی جبکہ جنوبی اور شمالی غزہ کے درمیان آمد ورفت شارع الرشید اور صلاح الدین روڈ کے ذریعے جاری رہے گی۔

اس کے باوجود، غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے جاری ہیں اور کئی علاقوں میں شدید تباہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

 

 

آب و ہوا
نقطۂ نظر اور آراء

مضامین کی ذمہ داری ان کے مصنفین پر ہے، اور اس کی اشاعت کا مطلب ان تبصروں کی منظوری نہیں ہے۔