- خبر کاکوڈ: 1689184
اسلامی انقلاب کے بانی اور رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی نے کچھ عناصر مختلف شہروں میں مراجع تقلید اور علمائے دین کی اہانت کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن نے جنگ، دہشت گردی، انفجار اور سیاسی سازشوں سمیت ہر ہربہ آزمایا، لیکن جب کامیابی نہ ملی تو اب وہ اختلافات پھیلانے کی پالیسی پر چل پڑے ہ
امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق،اسلامی انقلاب کے بانی اور رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی نے کچھ عناصر مختلف شہروں میں مراجع تقلید اور علمائے دین کی اہانت کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن نے جنگ، دہشت گردی، انفجار اور سیاسی سازشوں سمیت ہر ہربہ آزمایا، لیکن جب کامیابی نہ ملی تو اب وہ اختلافات پھیلانے کی پالیسی پر چل پڑے ہیں تاکہ ملت کو تقسیم کر کے اقتدار اور اثر قائم کیا جا سکے۔ امام خمینی نے ایسی حرکات کو براہِ راست اسلام اور انقلاب کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ ایسے افراد کو نصیحت کریں، اور اگر شرپسند گروہوں کا حصہ ہوں تو ان کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کی سیاسی قوتیں اسلامی جمہوریہ کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور ایسے حالات میں اتحادِ ملت ایک الٰہی فریضہ ہے۔ ان کے بقول اسلام اور جمہوریہ اسلامی کا تحفظ حتیٰ کہ ایک فرد کے تحفظ سے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ انبیائے کرام اور اولیائے دین نے ہمیشہ دینِ خدا کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اختلاف کی ہر شکل، خواہ وہ کسی بھی نام یا عنوان سے ہو، فقط اسلام اور انقلاب کے لیے ضرر رساں ہے۔
امام خمینی نے ایک اور خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ حلقے جان بوجھ کر علما اور ائمہ جماعات کی توہین کا سلسلہ چلا رہے ہیں تاکہ عوام اور روحانیت کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روحانیت کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا تو انقلاب وہی انجام دیکھے گا جو مشروطہ نے دیکھا، جہاں عوامی عدمِ اتحاد نے غیرملکی اور استبدادی اثرات کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ شاہد ہے کہ استعمار اور استبداد کے خلاف ہر بڑی اور مؤثر تحریک کا آغاز ہمیشہ علمائے دین کے ہاتھوں ہوا، اور یہی طبقہ اسلام کے حقیقی محافظین رہا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ شہید آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی جیسی باصلاحیت اور مخلص شخصیت کے خلاف کس طرح جھوٹ، پروپیگنڈے اور کردارکشی کے ذریعے فتنہ برپا کیا گیا، مگر عوام اس وقت جاگے جب ان جیسی عظیم ہستی کو کھو چکے تھے۔ امام خمینی کے مطابق یہی خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، اور اگر ملت نے بروقت ہوشیاری نہ دکھائی تو ممکن ہے کہ ایک دن انہیں پتہ چلے کہ علما حاشیے پر جا چکے ہیں اور اقتدار دوبارہ ان ہاتھوں میں واپس چلا گیا ہے جو مذہب کے نام پر اقتدار قائم رکھتے ہیں۔
امام خمینی نے رضاخان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابتدا میں مذہبی مراسم میں شریک ہو کر عوام کو دھوکا دیتا رہا، مگر اقتدار پختہ ہونے کے بعد مذہبی نشانات، روضہ خوانی اور دینی اجتماعات تک کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نعمتِ اسلام اور نعمتِ انقلاب کا شکر یہی ہے کہ امت متحد رہے اور اولیائے دین و روحانیت کی حرمت قائم رکھے، ورنہ امکان ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو انھی تلخ حالات کی طرف واپس لوٹا دے جن سے وہ انقلاب کے ذریعے نجات پا چکے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے پورے ایران کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر، خواہ وہ نادانی سے یا دشمن کے ایجنڈے کے تحت، قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ مختلف علما اور مراجع کے نام پر گروہ بندیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملت کی یکجہتی کو توڑا جا سکے۔ امام خمینی نے متنبہ کیا کہ اگر اس سازش کو نظر انداز کیا گیا تو دشمن ملک کے اندر ہی جگہ بنا لے گا اور انقلاب کی عظیم کامیابیوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔